Episode No 10
بیوی سے زیادہ بہن وفادار
قسط نمبر 10
لیکن سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کروں اور کہاں سے نہ کروں . میں نے کہا باجی کیا بات ہے خیر تو ہ ہے نہ . تو فضیلہ باجی نے کہا ہاں وسیم خیر ہے . اصل میں بات یہ ہے کہ تم میرے چھوٹے بھائی بھی ہو بیٹے کی طرح بھی ہو . ابّا جی کے بعد تو ا می یا میں ہی ہوں جو تمہارا خیال کریں گے اور تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہونے دیں گے . میں نے کہا باجی آپ کیا کہنا چاہتی ہیں کھل کر بات کریں مجھے پتہ ہے آپ میرا کبھی بھی نقصان یا برا نہیں سوچیں گی. وسیم دراصل مجھے تم سے سائمہ کے متعلق بات کرنی تھی . میں نے کہا کہو باجی کیا بات ہے . تو باجی نے کہا وسیم میرے بھائی سائمہ اور اس کی ماں ٹھیک عورت نہیں ہیں . اور تیری بِیوِی نے تو جان بوجھ کر ہم سب کو اور تمہیں دھوکہ دیا ہے . پِھر میں نے پوچھا باجی کس چیز کا دھوکہ . تو باجی نے وہ ہی نبیلہ والی ساری اسٹوری جو سائمہ اور اس کی ماں کی تھی مجھے سناتی رہی اور میں اپنے چہرے کے تاثرات سے ان کو یہ شق نہیں ہونے دیا کہ مجھے کچھ پتہ ہے. میں نے باجی کی پوری بات سن کر تھوڑا پریشانی والا چہرہ بنا لیا اور میں نے کہا باجی اِس لیے میں کہوں وہ اتنا زیادہ اپنی ماں کے پاس کیوں جاتی ہے . آج پتہ چلا کہ وہ تو مجھے ہم سب کو دھوکہ دے رہی ہے . پِھر میں نے کہا باجی مجھے اپنی سھاگ رات پے ہی شق ہو گیا تھا لیکن آج آپ کی باتیں سن کر شق یقین میں بَدَل گیا ہے . تو باجی نے کہا وسیم سھاگ رات کو تمہیں اس پے کیسے شق ہوا تھا .
میں نے کہا باجی وہ کنواری نہیں تھی صبح بیڈ کی شیٹ دیکھی تو وہ صاف تھی کوئی خون کا نشان نہیں تھا . اس دن میرے دماغ میں شق بیٹھ گیا تھا لیکن آج تو یقین میں بَدَل چکا ہے. اور پِھر باجی نے کہا سائمہ بہت بڑی کنجری نکلی ہے لیکن اس کی ماں تو اس سے بڑی کنجری نکلی ہے اپنے سگے بھائی کو بھی نہیں چھوڑا . لیکن وسیم میں تم سے اِس لیے یہ بات کر رہی ہوں کہ اب کیا پتہ ان دونوں ماں بیٹی کے اور کتنے یار ہیں اور اگر گاؤں میں یا خاندان میں کسی کو ان کا پتہ چل گیا تو بدنامی سب سے زیادہ تو ہماری ہو گی . وہ دونوں ماں بیٹی تو لاہور بیٹھی ہیں ان کو کون جا کر کوئی پوچھے گا . میں نے کہا ہاں باجی یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں . تو باجی نے کہا اِس لیے وسیم تم کچھ کرو اور اِس مسئلے کا حَل نکالو نہیں تو لوگ تو چا چے کو برا بھلا کہیں گے اور ہمارا چا چا تو عزت دار بندہ تھا . میں نے کہا باجی آپ مجھے کچھ سوچنے کا ٹائم دو میں سوچ لوں پِھر دیکھتا ہوں آگے کیا کرنا ہے . باجی نے کہا جو بھی ہو سوچ سمجھ کر کرنا . میں نے کہا ٹھیک ہے باجی آپ بے فکر ہو جائیں . پِھر باجی خاموش ہو گئی . میں نے کہا باجی اس دن آپ کے گھر پے آپ شازیہ باجی کے بارے میں کچھ بول رہی تھی آپ نے کہا تھا میں تمہیں اپنے گھر آ کر اکیلے میں بتاؤں گی . باجی کی آنکھ سے آنسو نکل آ گئے اور میں نے باجی کا چہرہ اپنے ھاتھوں میں لے کر ان کا ماتھا چُوما اور اپنے ساتھ گلے لگا لیا اور بولا باجی رَو کیوں رہی ہیں کیا ہوا ہے. پِھر باجی نے کہا وسیم شازیہ بھی بہت بڑی کنجری عورت ہے اس نے تو میرا میاں ہی مجھے سے چھین لیا ہے . اور میں اپنے میاں كے ھوتے ہوئے بھی بس اکیلی اور تنہا ہوں . اور پِھر باجی نے مجھے ظفر بھائی اور شازیہ باجی کا وہ والا واقعہ بتا دیا جو مجھے نبیلہ نے بھی بتایا تھا . میں حیران ھوتے ہوئے باجی کو کہا باجی یہ کیسے ممکن ہے . ظفر بھائی شازیہ باجی میرا مطلب ہے اپنی سگی بہن کے ساتھ ہی کرتے ہیں . تو باجی نے کہا ہاں وسیم یہ سچ ہے اور وہ اب کھل کھلاکر کرتے ہیں شازیہ اور ظفر کو پتہ ہے کے مجھے یہ سب پتہ ہے اور دونوں بہن بھائی ہر روز شازیہ کے کمرے میں یہ کھیل کھیلتے ہیں . اِس لیے تو اپنے شوہر کے گھر نہیں رہتی اور اپنے سسرال میں لڑائی کر کے کئی کئی دن یہاں اپنے ماں کے گھر آ جاتی ہے اور دن رات اپنے بھائی سے مزہ لیتی ہے. میں نے کہا باجی یہ تو آپ پے بہت ظلم ہے اور مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے میری باجی کتنے سال سے یہ اذیت برداشت کر رہی ہے . باجی نے کہ ہاں وسیم بس کیا بتاؤں کس طرح یہ زندگی گزار رہی ہوں اپنا دکھ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اتنی بدنامی ہو جائے گی اور میرے دکھ کا کوئی مداوا بھی نہیں کر سکتامیں نے کہا باجی اِس بارے میں بھی آپ مجھے کچھ وقعت دو میں اپنی باجی کے دکھ اور ظلم کا مداوا ضرور کروں گا .باجی نے کہا وسیم میرے بھائی کیا کرو گے تم اپنی بہن کو کیا دے سکتے ہو سوائے تسلی کے کیا کرسکتے ہو.میں نے کہا باجی آپ فکر نہ کریں مجھے بس کچھ وقعت دیں میں شازیہ باجی کا بھی علاج کر لوں گا اور آپ کے لیے بھی کچھ نا کچھ ضرور سوچوں گا آپ میری باجی ہیں چاہے مجھے کچھ بھی آپ کے لیے کرنا پڑے میں کروں گا . بس آپ اب زیادہ دکھی نہ ہوں اور مجھے کچھ دن وقعت دیں پِھر دیکھیں آپ کا بھائی کیا کیا کرتا ہے. باجی نے کہا وسیم میرے بھائی مجھے تم پے پورا بھروسہ ہے تم میرا کبھی برا نہیں سوچو گے اور میری خوشی کے لیے کچھ بھی کرو گے . مجھے اب کوئی پریشانی نہیں ہے میرا بھائی میرے ساتھ ہے . تم جتنا مرضی وقعت لے لو جو بھی کرو میں تمہارا پورا پورا ساتھ دوں گی .
پِھر باجی نے کہا وسیم نبیلہ کے بارے میں کیا سوچا ہے اس کی شادی کے لیے کیا سوچا ہے . میرے بھائی اس کی عمر بہت ہو گئی ہے . میں عورت ہوں دوسری عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہوں اس کی عمر میں اس کو کسی کی ضرورت ہے پیار کی خیال کی مرد کی اِس لیے میرے بھائی اس کی شادی کا سوچو . میں نے کہا باجی میں کتنی دفعہ کوشش کر چکا ہوں لیکن نبیلہ شادی کی بات سنے کو تیار نہیں جب اس سے بات کرو کہتی ہے شادی کے علاوہ بات کرنی ہے تو کرو نہیں تو میں کوئی بات نہیں سنوں گی اور کہتی ہے نہ ہی مجھے کوئی پسند ہے . اور نہ ہی ظہور کے لیے مانتی ہے . میں کروں تو کیا کروں . باجی نے کہا ہاں میں جانتی ہوں ابّا جی بھی سمجھا سمجھا کر دنیا سے چلے گئے میں نے کتنی دفعہ کوشش کی لیکن وہ بات ہی نہیں سنتی . لیکن میرے بھائی میری بات کو تم سمجھو شادی کے بغیر وہ گھٹ گھٹ کر مر جائے گی . تم خود شادی شدہ ہو
Comments
Post a Comment