Episode No 5

 بیوی سے زیادہ بہن وفادار 

قسط نمبر 05 

پاکستان میں 12 کا ٹائم تھا مجھے نبیلہ کے نمبر سے کال آئی . میں پہلے تھوڑا حیران ہوا کے آج اتنی دیر کو نبیلہ کال کیوں کر رہی ہے . میں نے اس کی کال کٹ کر کے خود کال ملائی اور تو نبیلہ سے سلام دعا ہوئی پِھر وہ میرا حال پوچھنے لگی . وہ شاید میرے سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی لیکن اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی بات کیسے شروع کرے . پِھر میں نے ہی تھوڑی دیر یہاں وہاں کی بات کر کے پوچھا کے سائمہ کیسی ہے تو وہ بولی کے وہ آج لاہور چلی گئی ہے . میں نے کہا نبیلہ آج ٹائم مل گیا ہے تو مجھے آج سائمہ اور چا چی کے بارے میں بتا دو . تا کہ میرے دِل کو بھی سکون ہو . پِھر نبیلہ بولی بھائی آپ سے چا چے نے آخری دفعہ کیا کہا تھا . میں نے اس کو چا چے سے ہوئی بات بتا دی . تو نبیلہ بولی بھائی چھا چے نے بہت مشکل وقعت دیکھا ہے سائمہ اور چھا چی نے چھا چے کی کے آخریسالوںبہت اذیت دی اور بچارے دنیا میں اپنے بِیوِی اور بیٹی کے کرتوت کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر دنیا سے چلے گئے. میں نے نبیلہ کو پوچھا نبیلہ صاف بتاؤ تم کہنا کیا چاہتی ہو کیوں گھوما گھوما کر بات کر رہی ہو . تو نبیلہ بولی بھائی چا چی اور سائمہ دونوں ٹھیک عورتیں نہیں ہیں . سائمہ کا شادی سے پہلے ہی کسی ساتھ چکر تھا اور وہ اس کے ساتھ شادی سے پہلے ہی سو چکی ہے . اور چا چی کا بھی اس بندے کے ساتھ چکر ہے اور وہ بھی اس بندے کے ساتھ سب کچھ کرتی ہے جس سے سائمہ کرتی ہے اور دونوں ماں بیٹی کو ایک دوسرے کا پتہ ہے . اور چچی کے 2 یار ہیں جن کے ساتھ اس کا چکر ہے. اِس لیے میں نے ثناء کو اس گھر سے نکالا ہے تا کہ اس کی زندگی برباد نہ ہو. نبیلہ کی بات سن کر میرے سر چکر ا گیا تھا اور مجھے شدید جھٹکا لگا تھا . مجھے اپنی سہاگ رات والی رات کا واقعہ یاد آ رہا تھا اور میرا اس دن والا شق آج نبیلہ کی باتیں سن کر یقین میں بَدَل چکا تھا . کچھ دیر میری طرف سے خاموشی دیکھ کر نبیلہ بولی بھائی آپ میری بات سن رہے ہیں نہ . تو میں اس کی آواز سن کر پِھر چونک گیا اور بولا ہاں ہاں نبیلہ سن رہا ہوں. نبیلہ بولی آپ کیا سوچ رہے ہیں . میں نے کہا نبیلہ مجھے اپنی شادی کی پہلی رات یاد آ رہی ہے مجھے اس رات گزر نے کے بعد صبح ہی میرے دِل میں شق آ گیا تھا جو مجھے آج تمہاری باتوں سے یقین میں بَدَل گیا ہے . تو نبیلہ بولی بھائی مجھے پتہ ہے آپ کو اس رات کیوں اور کیسے شق ہوا تھا .اس رات میں نے سفید چادر جان بوجھ کر ڈالی تھی تا کہ ہم سب کو سائمہ کی حقیقت پتہ چل سکے . میں نے کہا نبیلہ تمہیں پتہ تھا کے اس کاخون نہیں نکلا جو اِس بات کا ثبوت ہے کے سائمہ ٹھیک لڑکی نہیں تھی . تو نبیلہ نے کہا بھائی مجھے بھی بس شق تھا . آپ نے تو صرف سفید چادر کا راز دیکھا ہے لیکن چا چی کا تو مجھے آپ کی شادی سے پہلے ہی پتہ تھا کہ چا چی کا چا چے کے علاوہ بھی ایک اور یار ہے . مجھے فضیلہ باجی نے بتایا تھا کیونکہ فضیلہ باجی کو بھی چا چی کی اپنی بھابی نے ہی چا چی کا اور اس کے یار کا بتایا تھا .اور چا چی کی بھابی فضیلہ باجی کی کلاس فیلو بھی ہے اور باجی کےسسرا لی محلے میں چا چی کی بھابی کی ا می کا گھر بھی ہے. لیکن بعد میں میں نے سائمہ اور چا چی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے . میں نے کہا تم نے چا چی اور سائمہ کو کہاں دیکھا تھا اور کس کے ساتھ دیکھا تھا . تو نبیلہ نے کہا بھائی جب آپ شادی کر کے واپس سعودیہ چلے گئے تھے تو ایک دفعہ سائمہ ابّا جی کو بول کر مجھے بھی اپنے ساتھ لاہور اپنی ماں کے گھر لے گئی تھی اور میں وہاں 15 دن ان کے گھر میں رہی تھی . ایک دن دو پہر کو جب سب سوئے ہوئے تھے تو میں ثناء کے ساتھ اس کے کمرے میں سوئی ہوئی تھی تو میں پیشاب کے لیے اٹھی اور باتھ روم میں گئی ان کا باتھ روم اوپر والی اسٹوری کی جو سیڑھیاں ہیں اس کے نیچے ہی بنا ہوا تھا میں جب اس کے پاس پہنچی تو مجھے اوپر والے کمرے سے چا چی کی سسکنے کی آواز سنائی دی . میں پِھر بھی باتھ روم میں میں چلی گئی جب باتھ روم سے فارغ ہو کر باہر نکلی تو مجھے چا چی کی سسکنے کی آواز بدستور آ رہی تھی میں حیران بھی تھی اور ڈر بھی رہی تھی .چا چی کو کیا ہوا ہے وہ عجیب عجیب آوازیں کیوں نکا ل رہی ہے . میں آہستہ آہستہ سے چلتی ہوئی اوپر چلی گئی اوپر ایک ہی کمرہ بنا ہوا تھا اسٹور ٹائپ کمرہ تھا اور اس کا ایک دروازہ بند ہوا تھا اور اور ایک سائڈ کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا میں اس کمرے کے پاس گئی اور جا کر اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اندر ایک جوان 29 یا30 سال کا لڑکا پورا ننگا اور چا چی بھی پوری ننگی تھی اور انہوں نے زمین پر ہی گدا ڈالا ہوا تھا اور وہ لڑکا چا چی کو اُلٹا لیٹا کر چا چی کو چودرہا تھا اور چا چی وہاں سسک رہی تھی . میں نے بس 2 یا 3 منٹ ہی ان کو اِس حالت میں دیکھا تو میرا سر چر ا گیا تھا میں تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی نیچے آ گئی اور آ کر کمرے میں ثناء کے ساتھ لیٹ گئی . میرا دماغ گھوم رہا تھا . چا چا تو اپنی دکان پے ہی ہوتا تھا اور سائمہ اپنی ماں کے کمرے میں سوتی تھی . وہ دن رات تک میں سوچتی رہی کے میں چا چی کے بارے میں کس سے بات کروں . پِھر میں نے سائمہ سے ہی بات کرنا کا سوچا کے اس کو بتا دوں گی کے اس کی ماں کیا گل کھلا رہی ہے . میں 2 سے 3 دن تک موقع تلاش کرتی رہی کہ اکیلے میں سائمہ سے بات کر لوں . لیکن کوئی موقع نہیں ملا پِھر ایک دن چا چا چا چی کو کو لے کر اسپتال گیا ہوا تھا . میں اور سائمہ اور ثناء گھر پے اکیلی ہی تھی . تو میں نے سوچا جب ثناء دو پہر کو سو جائے گی تو میں سائمہ کے کمرے میں جا کر اس سے بات کروں گی . اور پِھر دو پہر کو جب ثناء سو گئی تو میں آہستہ سے اٹھی اور کمرے سے نکل کر سائمہ کی ماں کے کمرے میں گئی کیونکہ سائمہ وہاں ہی سوتی تھی میں نے دروازے پے آہستہ سے دستک دی لیکن کوئی اندر سے کوئی جواب نہیں آیا اور پِھر میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو وہ کھل گیا اندر جھانک کر دیکھا تو کمرہ خالی تھا میں حیران تھی یہ سائمہ کاہان گئی ہے میں پِھر وہاں سے بات

Comments

Popular posts from this blog

Episode No 10

Episode No 9

Episode No 4